اعلیٰ تعلیم اسکولی سطح کی تعلیم کے بعد آتی ہے اور اعلیٰ علمی، پیشہ ورانہ یا تکنیکی سیکھنے کا موقع دیتی ہے۔ بھارت میں طلبہ جامعات، ان سے وابستہ کالجوں، خودمختار اداروں، مخصوص شعبوں کے اداروں یا منظور شدہ فاصلاتی تعلیم فراہم کرنے والوں میں پڑھ سکتے ہیں۔ انڈرگریجویٹ پروگرام بنیادی اور مضمون سے متعلق علم پیدا کرتے ہیں۔ پوسٹ گریجویٹ پروگرام گہری تخصص فراہم کرتے ہیں، جبکہ ڈاکٹریٹ کی تعلیم زیرِ نگرانی تحقیق پر مرکوز ہوتی ہے۔ جامعات طلبہ کو خود تعلیم دے سکتی ہیں یا وابستہ کالجوں کے ذریعے کام کر سکتی ہیں۔ یہ فرق اہم ہے کیونکہ پڑھانے والا ادارہ، امتحان لینے والا ادارہ اور ڈگری دینے والا ادارہ ہمیشہ ایک ہی نہیں ہوتے۔ داخلہ اسکول کے نتائج، داخلہ امتحانات، انٹرویو، کام کے نمونوں یا پروگرام کی دیگر شرائط پر منحصر ہو سکتا ہے۔ طریقۂ کار ادارے اور مضمون کے لحاظ سے مختلف ہوتا ہے۔ منظوری ضروری ہے۔ ادارے اور پروگرام کو وہ حیثیت حاصل ہونی چاہیے جو منتخب شعبے میں مزید تعلیم، ملازمت، پیشہ ورانہ کام یا رسمی امتحانات کے لیے درکار ہے۔ تدریس انگریزی، کسی علاقائی زبان یا دونوں میں ہو سکتی ہے۔ طلبہ کو لیکچرز، کتابوں، اسائنمنٹس، عملی کام اور امتحانات میں استعمال ہونے والی زبان کی تصدیق کرنی چاہیے۔ مطالعے میں عموماً لیکچر، ٹیوٹوریل، تجربہ گاہیں، منصوبے، میدانی کام، انٹرن شپ، خود مطالعہ اور امتحانات شامل ہوتے ہیں۔ ان کا تناسب اس بات پر منحصر ہے کہ پروگرام علمی، تکنیکی یا پیشہ ورانہ ہے۔ اعلیٰ تعلیم علم، روابط، خود مختاری اور کیریئر کے امکانات بڑھا سکتی ہے۔ اس کی حدود میں لاگت، معیار کا یکساں نہ ہونا، مشکل داخلہ طریقے اور کلاس روم میں سیکھی باتوں اور کام کی جگہ کی ضروریات کے درمیان ممکنہ فرق شامل ہیں۔ اچھا انتخاب پروگرام کو ایک حقیقت پسندانہ مقصد سے جوڑتا ہے۔ داخلہ لینے سے پہلے طلبہ کو نصاب، منظوری، اساتذہ، سہولتوں، عملی تجربے، کل لاگت، مقام اور فارغ التحصیل ہونے کے بعد کے راستوں کا موازنہ کرنا چاہیے۔
بھارت میں اعلیٰ تعلیم
بھارت میں اعلیٰ تعلیم میں جامعات، کالج، ادارے اور فاصلاتی یا آن لائن تعلیم شامل ہیں۔ طلبہ انڈرگریجویٹ، پوسٹ گریجویٹ، پیشہ ورانہ، تکنیکی یا تحقیقی پروگرام کر سکتے ہیں۔ داخلہ، منظوری، تدریسی زبان اور معیار ادارے اور شعبے کے لحاظ سے مختلف ہوتے ہیں۔
Tip
اپنی مطلوبہ ملازمت یا مزید تعلیم سے آغاز کریں جس میں یہ سند مدد دے سکے۔ ادائیگی سے پہلے متعلقہ سرکاری منظوری کے نظام سے ادارے اور پروگرام کی تصدیق کریں۔ صرف ادارے کے نام یا تشہیر کے بجائے پورے نصاب اور عملی مواقع کا موازنہ کریں۔

